آپ کی آنکھ سے گہرا ہے مری روح کا زخم

آپ کی آنکھ سے گہرا ہے مری روح کا زخم
آپ کیا سوچ سکیں گے مری تنہائی کو

میں تو دم توڑ رہا تھا مگر افسردہ حیات
خود چلی آئی مری حوصلہ افزائی کو

لذت غم کے سوا تیری نگاہوں کے بغیر
کون سمجھا ہے مرے زخم کی گہرائی کو

میں بڑھاؤں گا تری شہرت خوشبو کا نکھار
تو دعا دے مرے افسانۂ رسوائی کو

وہ تو یوں کہیے کہ اک قوس قزح پھیل گئی
ورنہ میں بھول گیا تھا تری انگڑائی کو

آپ کی آنکھ سے گہرا ہے مری روح کا زخم
آپ کیا سوچ سکیں گے مری تنہائی کو

میں تو دم توڑ رہا تھا مگر افسردہ حیات
خود چلی آئی مری حوصلہ افزائی کو

لذت غم کے سوا تیری نگاہوں کے بغیر
کون سمجھا ہے مرے زخم کی گہرائی کو

میں بڑھاؤں گا تری شہرت خوشبو کا نکھار
تو دعا دے مرے افسانۂ رسوائی کو

وہ تو یوں کہیے کہ اک قوس قزح پھیل گئی
ورنہ میں بھول گیا تھا تری انگڑائی کو

For more update poetry visit: urdupoetryy.com

Read more

قصے میری الفت کے جو مرقوم ہیں سارے

قصے میری الفت کے جو مرقوم ہیں سارے
آ دیکھ تیرے نام سے موسوم ہیں سارے

بس اس لیے ہر کام اَدُھورا ہی پڑا ہے
خادم بھی میری قوم کے مخدوم ہیں سارے

اب کون میرے پاؤں کی زنجیر کو کھولے
حاکم میری بستی کے بھی محکوم ہیں سارے

شاید یہ ظرف ہے جو خاموش ہوں اب تک
ورنہ تو تیرے عیب بھی معلوم ہیں سارے

ہر جرم میری ذات سے منسوب ہے
کیا میرے سوا شہر میں معصوم ہیں سارے

قصے میری الفت کے جو مرقوم ہیں سارے
آ دیکھ تیرے نام سے موسوم ہیں سارے

بس اس لیے ہر کام اَدُھورا ہی پڑا ہے
خادم بھی میری قوم کے مخدوم ہیں سارے

اب کون میرے پاؤں کی زنجیر کو کھولے
حاکم میری بستی کے بھی محکوم ہیں سارے

شاید یہ ظرف ہے جو خاموش ہوں اب تک
ورنہ تو تیرے عیب بھی معلوم ہیں سارے

ہر جرم میری ذات سے منسوب ہے
کیا میرے سوا شہر میں معصوم ہیں سارے

For more update about all types of poetry visit: urdupoetryy.com

Read more