رضواں تجھے جو ناز ہے جنت پہ اس قدر

رضواں تجھے جو ناز ہے جنت پہ اس قدر
کیا چیز ہے وہ روضۂ اطہر کے سامنے

پھیکا ہے نورِ خُر، رخِ انور کے سامنے
ہے ہیچ مشک زلفِ معطر کے سامنے

خجلت سے آب آب ہیں نسرین و یاسمین
کیا منہ دکھائیں جا کے گلِ تر کے سامنے

ہے زنگِ معصیت سے سیہ دل کا آئینہ
کیا اس کو لے کے جاؤں سکندر کے سامنے

قسمت کا لکّھا مٹ نہیں سکتا کسی طرح
تدبیر کیا کرے گی مقدر کے سامنے

نظرِ کرم ہو آنکھ میں آجائے روشنی
کہنا صبا یہ جا کے پیمبر کے سامنے

شیشہ نہ ہو نہ سنگ ہو، چشمہ ہو نور کا
اس کو لگا کے جاؤں میں سرور کے سامنے

جس در سے آج تک کوئی لوٹا نہ خالی ہاتھ
دستِ طلب دراز ہے اس در کے سامنے

رضواں تجھے جو ناز ہے جنت پہ اس قدر
کیا چیز ہے وہ روضۂ اطہر کے سامنے

پھیکا ہے نورِ خُر، رخِ انور کے سامنے
ہے ہیچ مشک زلفِ معطر کے سامنے

خجلت سے آب آب ہیں نسرین و یاسمین
کیا منہ دکھائیں جا کے گلِ تر کے سامنے

ہے زنگِ معصیت سے سیہ دل کا آئینہ
کیا اس کو لے کے جاؤں سکندر کے سامنے

قسمت کا لکّھا مٹ نہیں سکتا کسی طرح
تدبیر کیا کرے گی مقدر کے سامنے

نظرِ کرم ہو آنکھ میں آجائے روشنی
کہنا صبا یہ جا کے پیمبر کے سامنے

شیشہ نہ ہو نہ سنگ ہو، چشمہ ہو نور کا
اس کو لگا کے جاؤں میں سرور کے سامنے

جس در سے آج تک کوئی لوٹا نہ خالی ہاتھ
دستِ طلب دراز ہے اس در کے سامنے

For more update poetry visit: urdupoetryy.com

Read more

اپنی رحمت کے سمندر میں اُتر جانے دے

اپنی رحمت کے سمندر میں اُتر جانے دے
بے ٹھکانہ ہوں ازل سے مجھے گھر جانے دے

سُوئے بطحا لئے جاتی ہے ہوائے بطحا
بوئے دنیا مجھے گمراہ نہ کر جانے دے

تیری صورت کی طرف دیکھ رہا ہوں آقا
پتلیوں کو اِسی مرکز پہ ٹھہر جانے دے

زندگی! گنبدِ خضرٰی ہی تو منزل ہے مری
مجھ کو ہریالیوں میں خاک بسر جانے دے

موت پر میری شہیدوں کو بھی رشک آئے گا
اپنے قدموں سے لپٹ کر مجھے مر جانے دے

خواہشِ ذات بہت ساتھ دیا ہے تیرا
اب جدھر میرے مُحَمّدﷺ ہیں اُدھر جانے دے

روک رضواں نہ مظفؔر کو درِ جنت پر
یہ مُحَمّدﷺ کا ہے منظورِ نظر جانے دے

اپنی رحمت کے سمندر میں اُتر جانے دے
بے ٹھکانہ ہوں ازل سے مجھے گھر جانے دے

سُوئے بطحا لئے جاتی ہے ہوائے بطحا
بوئے دنیا مجھے گمراہ نہ کر جانے دے

تیری صورت کی طرف دیکھ رہا ہوں آقا
پتلیوں کو اِسی مرکز پہ ٹھہر جانے دے

زندگی! گنبدِ خضرٰی ہی تو منزل ہے مری
مجھ کو ہریالیوں میں خاک بسر جانے دے

موت پر میری شہیدوں کو بھی رشک آئے گا
اپنے قدموں سے لپٹ کر مجھے مر جانے دے

خواہشِ ذات بہت ساتھ دیا ہے تیرا
اب جدھر میرے مُحَمّدﷺ ہیں اُدھر جانے دے

روک رضواں نہ مظفؔر کو درِ جنت پر
یہ مُحَمّدﷺ کا ہے منظورِ نظر جانے دے

For more update about all types of poetry visit: urdupoetryy.com

Read more

حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے

حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے
سلام کےلیےحاضر غلام ہو جائے

میں صرف دیکھ لوں اک بار صبح طیبہ کو
بلا سےپھر مری دنیا میں شام ہو جائے

تجلیات سےبھر لوں میں کاسئہ دل و جاں
کبھی جو اُن کی گلی میں قیام ہو جائے

حضور آپ جو سن لیں تو بات بن جائے
حضور آپ جو کہہ دیں تو کام ہو جائے

حضور آپ جو چاہیں تو کچھ نہیں مشکل
سمٹ کےفاصلہ یہ چند گام ہو جائے

ملےمجھےبھی زبان بوصیری و جامی
مرا کلام بھی مقبول عام ہو جائے

مزا تو جب ہےفرشتےیہ قبر میں کہہ دیں
صبیح! مدحتِ خیر الانام ہو جائے

صلی اللہ علیہ وسلم

حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے
سلام کےلیےحاضر غلام ہو جائے

میں صرف دیکھ لوں اک بار صبح طیبہ کو
بلا سےپھر مری دنیا میں شام ہو جائے

تجلیات سےبھر لوں میں کاسئہ دل و جاں
کبھی جو اُن کی گلی میں قیام ہو جائے

حضور آپ جو سن لیں تو بات بن جائے
حضور آپ جو کہہ دیں تو کام ہو جائے

حضور آپ جو چاہیں تو کچھ نہیں مشکل
سمٹ کےفاصلہ یہ چند گام ہو جائے

ملےمجھےبھی زبان بوصیری و جامی
مرا کلام بھی مقبول عام ہو جائے

مزا تو جب ہےفرشتےیہ قبر میں کہہ دیں
صبیح! مدحتِ خیر الانام ہو جائے

صلی اللہ علیہ وسلم

For more update about all types of poetry visit: urdupoetryy.com

Read more

جہاں میں جس طرف دیکھا تری رحمت نظر آئی

جہاں میں جس طرف دیکھا تری رحمت نظر آئی
تری قدرت کے جلوؤں کی حسین صورت نظر آئی

چمن، برگ و شجر، صحرا و دریا چاند اور تارے
سبھی میں اے مرے مالک تری صنعت نظر آئی

کسی کو تختِ شاہانہ، کسی کو فقرو استِغناء
جسے جو بھی دیا اس میں تری حکمت نظر آئی

جہاں میں جس طرف دیکھا تری رحمت نظر آئی
تری قدرت کے جلوؤں کی حسین صورت نظر آئی

چمن، برگ و شجر، صحرا و دریا چاند اور تارے
سبھی میں اے مرے مالک تری صنعت نظر آئی

کسی کو تختِ شاہانہ، کسی کو فقرو استِغناء
جسے جو بھی دیا اس میں تری حکمت نظر آئی

For more update poetry visit: urdupoetryy.com

Read more

مدینے کا سفر ہے اور میں ہوں

مدینے کا سفر ہے اور میں ہوں
تمنا جوش پر ہے اور میں ہوں

ملی ہے روضۂ انور سے دعوت
مرے آقا ﷺ کا گھر ہے اور میں ہوں

اُدھر ہے گنبدِ خضرا کا منظر
اِدھر میری نظر ہے اور میں ہوں

ہوئے طیبہ میں ہیں جذبات تازہ
مرا خونِ جگر ہے اور میں ہوں

گنہگار امتی ہوں آپؐ کا ایک
شفاعت کی خبر ہے اور میں ہوں

برے اعمال پر اپنے ہوں نادم
مرا دامانِ تر ہے اور میں ہوں

ہوا ہوں آپؐ کے روضے پہ حاضر
دعاؤں کا ثمر ہے اور میں ہوں

سخن میرے کی کیا اوقات تنہاؔ
مرا ادنیٰ ہنر ہے اور میں ہوں

مدینے کا سفر ہے اور میں ہوں
تمنا جوش پر ہے اور میں ہوں

ملی ہے روضۂ انور سے دعوت
مرے آقا ﷺ کا گھر ہے اور میں ہوں

اُدھر ہے گنبدِ خضرا کا منظر
اِدھر میری نظر ہے اور میں ہوں

ہوئے طیبہ میں ہیں جذبات تازہ
مرا خونِ جگر ہے اور میں ہوں

گنہگار امتی ہوں آپؐ کا ایک
شفاعت کی خبر ہے اور میں ہوں

برے اعمال پر اپنے ہوں نادم
مرا دامانِ تر ہے اور میں ہوں

ہوا ہوں آپؐ کے روضے پہ حاضر
دعاؤں کا ثمر ہے اور میں ہوں

سخن میرے کی کیا اوقات تنہاؔ
مرا ادنیٰ ہنر ہے اور میں ہوں

For more update about all types of poetry visit: urdupoetryy.com

Read more

قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کردے

قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کردے
دہر میں اسمِ محمدؑ سے اُجالا کردے

قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کردے
دہر میں اسمِ محمدؑ سے اُجالا کردے

Kuwat E Ishq Say Har Passt Ko Bala Kr Dy

Duhar Mein Ism E Muhammad Say Ujala Kr Dy

For more update about all types of poetry visit: urdupoetryy.com

Read more

تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا
کیسی زمیں بنائی کیا آسماں بنایا

پاؤں تلے بچھایا کیا خوب فرش خاکی
اور سر پہ لاجوردی اک سائباں بنایا

مٹی سے بیل بوٹے کیا خوش نما اگائے
پہنا کے سبز خلعت ان کو جواں بنایا

خوش رنگ اور خوشبو گل پھول ہیں کھلائے
اس خاک کے کھنڈر کو کیا گلستاں بنایا

میوے لگائے کیا کیا خوش ذائقہ رسیلے
چکھنے سے جن کے مجھ کو شیریں دہاں بنایا

سورج بنا کے تو نے رونق جہاں کو بخشی
رہنے کو یہ ہمارے اچھا مکاں بنایا

پیاسی زمیں کے منہ میں مینہ کا چوایا پانی
اور بادلوں کو تو نے مینہ کا نشاں بنایا

یہ پیاری پیاری چڑیاں پھرتی ہیں جو چہکتی
قدرت نے تیری ان کو تسبیح خواں بنایا

تنکے اٹھا اٹھا کر لائیں کہاں کہاں سے
کس خوبصورتی سے پھر آشیاں بنایا

اونچی اڑیں ہوا میں بچوں کو پر نہ بھولیں
ان بے پروں کا ان کو روزی رساں بنایا

کیا دودھ دینے والی گائیں بنائیں تو نے
چڑھنے کو میرے گھوڑا کیا خوش عناں بنایا

رحمت سے تیری کیا کیا ہیں نعمتیں میسر
ان نعمتوں کا مجھ کو ہے قدرداں بنایا

آب رواں کے اندر مچھلی بنائی تو نے
مچھلی کے تیرنے کو آب رواں بنایا

ہر چیز سے ہے تیری کاری گری ٹپکتی
یہ کارخانہ تو نے کب رائیگاں بنایا

تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا
کیسی زمیں بنائی کیا آسماں بنایا

پاؤں تلے بچھایا کیا خوب فرش خاکی
اور سر پہ لاجوردی اک سائباں بنایا

مٹی سے بیل بوٹے کیا خوش نما اگائے
پہنا کے سبز خلعت ان کو جواں بنایا

خوش رنگ اور خوشبو گل پھول ہیں کھلائے
اس خاک کے کھنڈر کو کیا گلستاں بنایا

میوے لگائے کیا کیا خوش ذائقہ رسیلے
چکھنے سے جن کے مجھ کو شیریں دہاں بنایا

سورج بنا کے تو نے رونق جہاں کو بخشی
رہنے کو یہ ہمارے اچھا مکاں بنایا

پیاسی زمیں کے منہ میں مینہ کا چوایا پانی
اور بادلوں کو تو نے مینہ کا نشاں بنایا

یہ پیاری پیاری چڑیاں پھرتی ہیں جو چہکتی
قدرت نے تیری ان کو تسبیح خواں بنایا

تنکے اٹھا اٹھا کر لائیں کہاں کہاں سے
کس خوبصورتی سے پھر آشیاں بنایا

اونچی اڑیں ہوا میں بچوں کو پر نہ بھولیں
ان بے پروں کا ان کو روزی رساں بنایا

کیا دودھ دینے والی گائیں بنائیں تو نے
چڑھنے کو میرے گھوڑا کیا خوش عناں بنایا

رحمت سے تیری کیا کیا ہیں نعمتیں میسر
ان نعمتوں کا مجھ کو ہے قدرداں بنایا

آب رواں کے اندر مچھلی بنائی تو نے
مچھلی کے تیرنے کو آب رواں بنایا

ہر چیز سے ہے تیری کاری گری ٹپکتی
یہ کارخانہ تو نے کب رائیگاں بنایا

For more update poetry visit: urdupoetryy.com

Read more

یہی مسجد یہی کعبہ یہی گلزارِ جنت ہے

یہی مسجد یہی کعبہ یہی گلزارِ جنت ہے
چلے آوں مسلمانوں یہی تختِ محمدؐ ہے

ہم روک رہے ہیں باطل کو کوئی آئے ہمارے ساتھ چلے
یہ راستہ جنت جاتا ہے کوئی آئے ہمارے ساتھ چلے

کسی فرعون کو مشکل کشا کہہ دوں یہ مشکل ہے
کسی دجال کو میں انبیاء کہہ دوں یہ مشکل ہے

مجھے زنجیر پہنا دو مجھے سولی پہ لٹکا دو
مگر میں رہزنوں کو رہنما کہہ دوں یہ مشکل ہے

یہی مسجد یہی کعبہ یہی گلزارِ جنت ہے
چلے آوں مسلمانوں یہی تختِ محمدؐ ہے

ہم روک رہے ہیں باطل کو کوئی آئے ہمارے ساتھ چلے
یہ راستہ جنت جاتا ہے کوئی آئے ہمارے ساتھ چلے

کسی فرعون کو مشکل کشا کہہ دوں یہ مشکل ہے
کسی دجال کو میں انبیاء کہہ دوں یہ مشکل ہے

مجھے زنجیر پہنا دو مجھے سولی پہ لٹکا دو
مگر میں رہزنوں کو رہنما کہہ دوں یہ مشکل ہے

For more update about all types of poetry visit: urdupoetryy.com

Read more

بے زبانوں کو جب وہ زبان دیتا ہے

بے زبانوں کو جب وہ زبان دیتا ہے
پڑھنے کو پھر وہ قرآن دیتا ہے

بخشنے پہ آئے جب امت کے گنا ہوں کو
تحفے میں گناہگاروں کو رمضان دیتا ہے

بے زبانوں کو جب وہ زبان دیتا ہے
پڑھنے کو پھر وہ قرآن دیتا ہے

بخشنے پہ آئے جب امت کے گنا ہوں کو
تحفے میں گناہگاروں کو رمضان دیتا ہے

Be-Zubanon Ko Jab Wo Zaban Deta Hai
Parhne Ko Phir Woh Quraan Deta Hai

Bakhshne Pe Aaye Jab Ummat Ke Gunahon Ko
Tohfe Mein Gunahgaron Ko Ramzan Deta Hai

For more update about all types of poetry visit: urdupoetryy.com

Read more

بندہِ پرور حجاب لازم ہے

بندہِ پرور حجاب لازم ہے
ہر نطر پارسا نہیں ہوتی

بندہِ پرور حجاب لازم ہے
ہر نطر پارسا نہیں ہوتی

Band-e-Parwar Hijab Lazim Hai,
Her Nazar Paarsa Nahi Hoti.

For more update poetry visit: urdupoetryy.com

Read more