جہاں دیکھو عشق کے بیمار بیٹھے ہیں

جہاں دیکھو عشق کے بیمار بیٹھے ہیں
ہزاروں مر کر بھی لاکھوں تیار بیٹھے ہیں

برباد کرکے اپنی تعلیم لڑکیوں کے پیچھے
پھر کہتے ہیں مولوی صاحب دعا کرو ہم بے روزگار بیٹھے ہیں

جہاں دیکھو عشق کے بیمار بیٹھے ہیں
ہزاروں مر کر بھی لاکھوں تیار بیٹھے ہیں

برباد کرکے اپنی تعلیم لڑکیوں کے پیچھے
پھر کہتے ہیں مولوی صاحب دعا کرو ہم بے روزگار بیٹھے ہیں

For more update poetry visit: urdupoetryy.com

Leave a Comment